نیت کرلیں، آج سے ہماری کوئی نماز قضا نہیں ہوگی


قسط 9: سجدے کا سکون، دنیا کی تھکن کا علاج


جب تھکن حد سے بڑھ جائے، دل بےچین ہو، جسم بوجھل ہو، آنکھیں نیند سے بوجھل ہوں، اور کوئی سہارا نظر نہ آئے — تب دل خودبخود ایک سجدہ مانگتا ہے۔


کیا آپ نے کبھی گہرے سجدے کا مزہ لیا ہے؟

وہ سجدہ جس میں دل کہتا ہے:

"اے اللہ! بس تو ہی ہے، اور میں بس تیرا بندہ ہوں۔"

وہ لمحہ جب زمین پر پیشانی رکھنے سے دل ہلکا ہو جاتا ہے۔

آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگتے ہیں۔

وہی لمحہ اصل عبادت ہے۔

وہی لمحہ اصل زندگی ہے۔


ہم دن میں پانچ مرتبہ اپنے خالق کے سامنے سجدہ کرتے ہیں، لیکن کیا ہر سجدہ واقعی دل سے ہوتا ہے؟

نماز صرف ایک فرض نہیں، یہ روح کا سکون ہے، اور سجدہ اُس سکون کا دروازہ۔


نماز قضا کرنے کا مطلب ہے خود کو اُس سکون سے محروم کرنا۔

دنیا کی مصروفیات، الجھنیں، امتحانات اور تھکن — ان سب کا بہترین علاج پانچ وقت کی نماز ہے۔

جب بندہ سجدے میں جاتا ہے تو وہ رب کی رحمت کے سب سے قریب ہوتا ہے۔


نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"بندہ اپنے رب کے سب سے قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، پس تم (اس وقت) کثرت سے دعا کیا کرو۔"

(صحیح مسلم)


تو آج نیت کیجئے:

ہم اپنے دن کی شروعات اور اختتام نماز سے کریں گے۔

ہم دن میں جتنی بھی مصروفیات ہوں، ان میں وقفہ لے کر اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے۔

کیونکہ سجدہ ہمارے دل کی دوا ہے، اور نماز ہمارے ایمان کی زندگی۔



 آج کا عمل:

عشا کی نماز کے بعد سجدے میں جا کر اللہ سے دعا کیجئے:

"یا اللہ! مجھے نمازوں کا پابند بنا دے، اور میرے دل کو سجدوں کا عشق عطا فرما۔"


 یاد دہانی:

نماز چھوڑنا نقصان ہے — ہر قضا نماز ہمیں اللہ کی رحمت سے دُور کرتی ہے۔

آج سے نیت کریں:

"میری کوئی نماز قضا نہیں ہوگی، ان شاء اللہ!"


Comments

Popular posts from this blog