قسط نمبر 10
عنوان: سستی یا مصروفیت؟ اصل رکاوٹ کیا ہے؟
ہم میں سے اکثر نماز چھوڑنے یا قضا کرنے کا جواز یوں پیش کرتے ہیں کہ "مصروف تھے"، "کچھ یاد نہیں رہا"، یا "تھکن بہت تھی"۔ لیکن ذرا سوچیے:
کیا ہم نے کبھی کھانا چھوڑا؟ کیا موبائل استعمال کرنا بھول گئے؟ کیا ہم تھکن کی حالت میں بھی اپنی پسندیدہ چیز کے لیے وقت نکال لیتے ہیں یا نہیں؟
تو پھر نماز جو ہمارا اللہ سے تعلق جوڑتی ہے — اس کے لیے ہم کیوں پیچھے ہٹتے ہیں؟
اصل رکاوٹ مصروفیت یا تھکن نہیں، بلکہ نیت کی کمزوری اور ترجیحات کا بگاڑ ہے۔
نماز ہماری ترجیح بنے، تو مصروفیتیں آسان ہوجائیں گی۔
آج نیت کریں کہ
میں چاہے جتنا بھی مصروف ہوں، نماز نہیں چھوڑوں گا۔
موبائل، گپ شپ یا نیند سے پہلے نماز ادا کروں گا۔
فجر کے لیے الارم نہیں، نیت مضبوط رکھوں گا۔
قرآنی یاد دہانی
إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ كَانَتْ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ كِتَـٰبًۭا مَّوْقُوتًۭا
"بیشک نماز مومنوں پر وقت مقررہ پر فرض کی گئی ہے۔
(سورۃ النساء: 103)
آج کا عمل
اپنے دن کے تمام کاموں کا جائزہ لیں اور ہر نماز کو ان کے درمیان ایک مستقل، غیر قابلِ تبدیلی فرض کے طور پر رکھیں۔
دل سے کہیے، نیت کرلی ہے، آج سے میری کوئی نماز قضا نہیں ہوگی۔

Comments
Post a Comment