Posts

Showing posts from June, 2025
Image
  نیت کرلیں، آج سے ہماری کوئی نماز قضا نہیں ہوگی  قسط نمبر 12 موضوع: جو نماز چھوڑتا ہے، وہ کونسا نقصان کرتا ہے؟ کیا ہم نے کبھی بیٹھ کر سوچا ہے کہ ہم جو نماز چھوڑتے ہیں، وہ محض چند رکعتیں ہی نہیں ہوتیں؟ ہم صرف سجدے ترک نہیں کرتے، ہم اللہ سے جُڑنے کا ایک سنہرا موقع ضائع کر دیتے ہیں۔ نماز چھوڑنے والا: 1. اللہ کی رحمت سے محروم ہوتا ہے 2. دل میں وحشت، بے سکونی اور ناراضی کا بیج بو دیتا ہے 3. شیطان کے ہاتھوں کمزور ہتھیار بن جاتا ہے 4. اپنی دعاؤں کی قبولیت کی راہیں خود بند کر لیتا ہے 5. دنیا میں بھٹکتا ہے اور آخرت کا بھی خسارہ مول لیتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز چھوڑنے والا شخص کفر اور ایمان کے درمیان ہے۔ (صحیح مسلم) اب خود فیصلہ کریں۔ اگر کسی دن آپ کا فون بند ہو جائے، انٹرنیٹ نہ چلے، یا کسی ضروری کال سے محروم رہیں تو آپ فوراً پریشان ہو جاتے ہیں، کیوں؟ کیونکہ رابطہ ٹوٹ گیا! تو سوچیں: جب اللہ سے ہمارا رابطہ پانچ بار ٹوٹتا ہے، تو دل مردہ کیوں نہ ہو؟ نصیب کیوں نہ سوکھ جائیں؟ روح کیوں نہ بے چین ہو؟ آج کا عزم:  یا اللہ! آج سے میری کوئی فرض نماز قضا نہیں ہوگی۔ صبح ہو یا شام، تنہائ...
Image
  نیت کرلیں، آج سے ہماری کوئی نماز قضا نہیں ہوگی – قسط نمبر 11 عنوان: نماز کا اثر ہماری زندگی پر نماز صرف ایک فرض عبادت نہیں بلکہ ہماری پوری زندگی کو سنوارنے والا نظام ہے۔ جب بندہ دل سے نماز قائم کرتا ہے تو اس کی سوچ، عمل، گفتگو، معاملات، اور تعلقات سب میں نرمی، تقویٰ اور سکون آجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: > "اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنهٰى عَنِ الفَحشَاءِ وَ المُنكَرِ" “بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے” (سورۃ العنکبوت: 45) اگر نماز کے باوجود ہمارے اندر جھوٹ، غیبت، بددیانتی، سخت مزاجی، یا دنیا پرستی موجود ہے تو یہ سوچنے کا وقت ہے کہ کہیں ہماری نماز صرف جسمانی مشق تو نہیں بن گئی؟ نماز ہمیں ہر لمحے اللہ کی یاد میں رکھتی ہے۔ جو شخص دن میں پانچ بار اللہ کے سامنے جھکتا ہے، وہ کیسے جھوٹ بول سکتا ہے؟ کیسے حرام کما سکتا ہے؟ کیسے کسی پر ظلم کرسکتا ہے؟ آج سے عہد کریں کہ ہم نماز کو محض فرضی فریضہ نہیں، بلکہ دل و جان سے، خضوع و خشوع کے ساتھ ادا کریں گے۔ نماز کے بعد چند لمحے بیٹھ کر اللہ سے دعا مانگیں، استغفار کریں، اور اپنے دن بھر کے اعمال کا جائزہ لیں۔ یہی تعلق مضبو...
Image
 قسط نمبر 10 عنوان: سستی یا مصروفیت؟ اصل رکاوٹ کیا ہے؟ ہم میں سے اکثر نماز چھوڑنے یا قضا کرنے کا جواز یوں پیش کرتے ہیں کہ "مصروف تھے"، "کچھ یاد نہیں رہا"، یا "تھکن بہت تھی"۔ لیکن ذرا سوچیے: کیا ہم نے کبھی کھانا چھوڑا؟ کیا موبائل استعمال کرنا بھول گئے؟ کیا ہم تھکن کی حالت میں بھی اپنی پسندیدہ چیز کے لیے وقت نکال لیتے ہیں یا نہیں؟ تو پھر نماز  جو ہمارا اللہ سے تعلق جوڑتی ہے — اس کے لیے ہم کیوں پیچھے ہٹتے ہیں؟ اصل رکاوٹ مصروفیت یا تھکن نہیں، بلکہ نیت کی کمزوری اور ترجیحات کا بگاڑ ہے۔ نماز ہماری ترجیح بنے، تو مصروفیتیں آسان ہوجائیں گی۔  آج نیت کریں کہ میں چاہے جتنا بھی مصروف ہوں، نماز نہیں چھوڑوں گا۔ موبائل، گپ شپ یا نیند سے پہلے نماز ادا کروں گا۔ فجر کے لیے الارم نہیں، نیت مضبوط رکھوں گا۔ قرآنی یاد دہانی إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ كَانَتْ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ كِتَـٰبًۭا مَّوْقُوتًۭا "بیشک نماز مومنوں پر وقت مقررہ پر فرض کی گئی ہے۔ (سورۃ النساء: 103) آج کا عمل  اپنے دن کے تمام کاموں کا جائزہ لیں اور ہر نماز کو ان کے درمیان ایک مستقل، غیر قابلِ تبدیلی فرض کے طور پر...
Image
 نیت کرلیں، آج سے ہماری کوئی نماز قضا نہیں ہوگی قسط 9: سجدے کا سکون، دنیا کی تھکن کا علاج جب تھکن حد سے بڑھ جائے، دل بےچین ہو، جسم بوجھل ہو، آنکھیں نیند سے بوجھل ہوں، اور کوئی سہارا نظر نہ آئے — تب دل خودبخود ایک سجدہ مانگتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی گہرے سجدے کا مزہ لیا ہے؟ وہ سجدہ جس میں دل کہتا ہے: "اے اللہ! بس تو ہی ہے، اور میں بس تیرا بندہ ہوں۔" وہ لمحہ جب زمین پر پیشانی رکھنے سے دل ہلکا ہو جاتا ہے۔ آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگتے ہیں۔ وہی لمحہ اصل عبادت ہے۔ وہی لمحہ اصل زندگی ہے۔ ہم دن میں پانچ مرتبہ اپنے خالق کے سامنے سجدہ کرتے ہیں، لیکن کیا ہر سجدہ واقعی دل سے ہوتا ہے؟ نماز صرف ایک فرض نہیں، یہ روح کا سکون ہے، اور سجدہ اُس سکون کا دروازہ۔ نماز قضا کرنے کا مطلب ہے خود کو اُس سکون سے محروم کرنا۔ دنیا کی مصروفیات، الجھنیں، امتحانات اور تھکن — ان سب کا بہترین علاج پانچ وقت کی نماز ہے۔ جب بندہ سجدے میں جاتا ہے تو وہ رب کی رحمت کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "بندہ اپنے رب کے سب سے قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، پس تم (اس وقت) کثرت سے دعا کیا کرو۔" (صحیح ...