مذہب، انسانیت اور خدمت


اگر مذہب میں سے انسانیت اور خدمت خلق کو نکال دیا جائے تو ہمارے پاس صرف ظاہری عبادات باقی رہ جاتی ہیں — نماز، روزہ، تسبیح، نوافل، لیکن روح نکل چکی ہوتی ہے۔ عبادت کا مقصد تو انسان کو خدا کے قریب کرنا ہے، اور خدا کے قریب وہی ہوتا ہے جو خدا کی مخلوق کے قریب ہو۔


میرے اللہ کو عبادت کی حاجت نہیں — اُس کے پاس لاکھوں کروڑوں فرشتے ہیں جو ہر لمحہ اُس کی تسبیح میں مصروف ہیں، جن میں کوئی سستی نہیں، کوئی نافرمانی نہیں، کوئی غفلت نہیں۔ اگر اللہ چاہتا، تو صرف فرشتوں کی عبادت سے اپنا نظام چلاتا، مگر اُس نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، اور اسے عقل، دل، جذبہ، درد اور اختیار دیا تاکہ وہ محبت، رحم، مدد اور ایثار کا مظاہرہ کرے۔


حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ اس پر رحم نہیں کرتا۔"

(صحیح بخاری)


اسلام محض چند عبادات کا نام نہیں، بلکہ زندگی گزارنے کا ایک مکمل نظام ہے، جس کی بنیاد عدل، احسان، صبر، اور خدمت خلق پر ہے۔ نماز بندے کو بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، روزہ صبر سکھاتا ہے، زکوٰۃ اور صدقات انسان کو دوسروں کا دکھ درد بانٹنا سکھاتے ہیں۔ اگر ہماری عبادات کے بعد بھی ہمارے رویے سخت، زبان تلخ، دل بے حس اور ہاتھ بندھے ہوں تو پھر یہ عبادات اللہ کے ہاں کس درجے کی ہوں گی؟


اللہ کو ہماری رکوع و سجدے سے زیادہ دل کی نرمی، نیت کی پاکیزگی اور خدمت کا جذبہ محبوب ہے۔


آج کی دعا:

یا اللہ! ہمیں عبادات کے ساتھ ساتھ تیری مخلوق سے محبت کرنے والا دل عطا فرما۔ ہمیں رحم، سخاوت اور خدمت کے جذبے سے مالا مال فرما۔ ہماری عبادت کو قبول فرما، اور اسے ہمارے اخلاق اور کردار میں نرمی و بہتری کا ذریعہ بنا دے۔


آج کا عمل:

کسی ایک انسان کے چہرے پر مسکراہٹ لے آئیں — خواہ وہ سلام سے ہو، ایک نرمی والے لفظ سے، یا کسی چھوٹے سے کام میں مدد دے کر۔

کیونکہ کبھی کبھی ایک چھوٹا سا عمل، رب کی خوشنودی کا بڑا سبب بن جاتا ہے۔



---


اگر چاہیں تو اس سلسلے کو روزانہ کی تحریر یا یاد دہانی کے طور پر بھی جاری رکھا جا سکتا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog