سلسلہ: "آج سے کوئی نماز قضا نہیں ہوگی"

قسط نمبر: 6



---


عنوان: نماز کی قضا کا بوجھ قبر میں کیسے محسوس ہوگا؟



رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"پہلی چیز جس کا بندے سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے، اگر وہ ٹھیک نکلی تو وہ کامیاب و کامران ہوگا، اور اگر وہ خراب ہوئی تو وہ ناکام و نامراد ہوگا۔"

(ترمذی)


نماز صرف ایک فرض عبادت نہیں، بلکہ یہ ہماری آخرت کی فائل کا پہلا ورق ہے۔ قبر کی تنہائی میں، جب سب لوگ چھوڑ جائیں گے، تب ہمارے اعمال ہمارے ساتھ ہوں گے۔ نماز سب سے پہلا سوال ہے، اور اگر یہی کمزور ہو تو باقی اعمال کا کیا بنے گا؟


ذرا سوچیے:


جب مردہ قبر میں رکھا جاتا ہے اور فرشتے سوال کرتے ہیں تو کیا ہم یہ کہہ پائیں گے کہ "یا اللہ! میں تو پانچوں وقت حاضر تھا"؟


یا ہم شرمندہ ہو کر سر جھکا لیں گے کہ "کبھی نیند، کبھی کاروبار، کبھی موبائل... اور میں نمازیں قضا کرتا رہا؟"



نماز قضا ہونے کا مطلب صرف وقت گزر جانا نہیں، بلکہ یہ اللہ کی طرف سے بلاوے کو نظرانداز کرنا ہے۔ کیا ہم دنیا میں کسی بادشاہ کا بلاوا رد کر سکتے ہیں؟ تو اللہ، جو رب العالمین ہے، اُس کا بلاوا کیسے رد کرتے ہیں؟



---


آج کا عزم: "نماز کا وقت آتے ہی موبائل، باتیں، کام سب چھوڑ دوں گا۔ کیونکہ مجھے اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔"



---


یاد رکھیں:

ہر قضا نماز دل پر ایک بوجھ ہے، جو قبر میں بوجھ بن کر ساتھ جائے گا۔

آج توبہ کریں، اور نیت کریں کہ "آج سے کوئی نماز قضا نہیں ہوگی!"

Comments